(امید کی کرن) Ray of Hope


   اکیلے گھر میں جب بارش کی بوندیں کھڑکی سے اندر آنے لگتیں تو سارہ کا دل عجیب سا ہو جاتا۔ وہ آٹھ سال کی تھی اور دنیا کو اپنی چھوٹی سی کھڑکی سے دیکھتی تھی۔ اس کے والد روزی روٹی کمانے کے لیے صبح سویرے نکل جاتے اور رات گئے تھکے ہارے لوٹتے۔ اس کی ماں ایک بیماری کی وجہ سے بستر پر تھی، اور سارہ ہی گھر کے سارے کام سنبھالتی تھی۔ کھانا بنانا، برتن دھونا، اور اپنی ماں کا خیال رکھنا – یہ سب اس کی ذمہ داری تھی۔

ایک دن، جب وہ برتن دھو رہی تھی، اس کی نظر ایک پرانی، دھول سے اٹی ہوئی گڑیا پر پڑی جو ایک کونے میں پڑی تھی۔ گڑیا کا ایک ہاتھ ٹوٹا ہوا تھا اور اس کے بال الجھے ہوئے تھے، لیکن سارہ کو وہ خوبصورت لگی۔ اس نے گڑیا کو اٹھایا، اسے صاف کیا، اور پیار سے اپنے پاس رکھ لیا۔ وہ گڑیا اس کی نئی دوست بن گئی۔ وہ اس سے باتیں کرتی، اسے کہانیاں سناتی، اور اسے اپنے دکھ سکھ بتاتی۔ گڑیا نے اس کی تنہائی کو کم کر دیا۔

ایک شام، جب سارہ اپنی گڑیا کے ساتھ کھیل رہی تھی، اس کے والد گھر آئے۔ ان کے چہرے پر پریشانی کے آثار تھے۔ "سارہ، ہمیں کچھ پیسے کی ضرورت ہے،" انہوں نے آہستہ سے کہا۔ "تمہاری ماں کی دوا لانی ہے۔" سارہ کے دل میں ایک ٹھوکر لگی۔ وہ جانتی تھی کہ ان کے پاس پیسے نہیں ہیں۔
اگلی صبح، سارہ گڑیا کو لے کر شہر کے پرانے بازار میں گئی۔ اس نے سوچا کہ شاید کوئی اس گڑیا کو خرید لے۔ اسے امید نہیں تھی کہ کوئی اس ٹوٹی ہوئی گڑیا کے لیے پیسے دے گا، لیکن اس کے پاس اور کوئی راستہ نہیں تھا۔

وہاں بازار میں ایک ادھیڑ عمر کی عورت بیٹھی تھی جو پرانی چیزیں خریدتی تھی۔ سارہ نے اسے اپنی گڑیا دکھائی۔ عورت نے گڑیا کو دیکھا اور بولی، "یہ تو ٹوٹی ہوئی ہے، میں اس کے زیادہ پیسے نہیں دے سکتی۔" سارہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ "مگر یہ میری سب سے اچھی دوست ہے،" اس نے کہا، "میں اسے بیچنا نہیں چاہتی، لیکن مجھے پیسوں کی ضرورت ہے۔"

عورت نے سارہ کی معصومیت اور مجبوری کو سمجھا۔ اس نے گڑیا کے بدلے سارہ کو اتنے پیسے دیے کہ اس کی ماں کی دوا آ سکے۔ سارہ نے پیسے لیے اور بھاگتی ہوئی گھر کی طرف چل دی۔ اس کا دل بوجھل تھا، لیکن اسے تسلی تھی کہ اس کی ماں کو دوا مل جائے گی۔

جب سارہ گھر پہنچی، اس کی ماں نے اسے مسکراتے ہوئے دیکھا۔ "تمہاری طبیعت اب کیسی ہے ماں؟" سارہ نے پوچھا۔ "بہتر ہے، میری بیٹی،" ماں نے جواب دیا۔ سارہ نے انہیں پیسے دیے اور انہیں دوا لانے کو کہا۔

رات کو، جب سارہ اپنے بستر پر لیٹی تھی، اسے اپنی گڑیا کی یاد آئی۔ اسے لگا جیسے اس کا کوئی حصہ اس سے چھن گیا ہو۔ اس نے آنکھیں بند کیں اور گڑیا کو یاد کرنے لگی۔ اسے احساس ہوا کہ اصل خوبصورتی اور محبت چیزوں میں نہیں ہوتی، بلکہ رشتوں اور قربانیوں میں ہوتی ہے۔

اگلے دن جب اس کے والد صبح سویرے گھر سے نکلنے لگے تو انہوں نے سارہ کو گلے لگایا۔ "تم بہت بہادر ہو میری بیٹی،" انہوں نے کہا۔ سارہ نے پہلی بار محسوس کیا کہ گڑیا کے بغیر بھی وہ اداس نہیں تھی۔ اس کے دل میں ایک نئی امید جاگی تھی، یہ امید کہ وہ اپنی ماں کی دیکھ بھال کر سکتی ہے اور اپنے خاندان کے ساتھ ہر مشکل کا سامنا کر سکتی ہے۔ یہ گڑیا تو صرف ایک کھلونا تھی، اصل میں جو چیز اہم تھی وہ اس کا پیار، قربانی اور ہمت تھی۔

Post a Comment

0 Comments