
**عنوان: “کھڑکی کے اس پار”**
نایاب ایک پُرسکون مگر تنہا لڑکی تھی۔ سفید دوپٹہ، سادہ مسکراہٹ اور دل میں چھپے خواب۔ ہر شام وہ اپنے کمرے کی کھڑکی کے پاس بیٹھتی، ہاتھ میں چائے کا کپ اور نگاہیں آسمان پر — جیسے کسی کا انتظار ہو۔
کبھی کبھی وہ دل ہی دل میں کہتی،
"کاش کوئی ہو جو میری خاموشی کو بھی سنے۔"
ایک دن، اتفاق سے اس کی ملاقات ارسلان سے ہوئی۔ کتابوں کے ایک میلے میں، جہاں نایاب شاعری کی کتاب ڈھونڈ رہی تھی، ارسلان نے اُسے وہی کتاب تھمائی جو وہ تلاش کر رہی تھی۔
انگلیاں چھوئیں، دل نے دھڑکنا بھول گیا۔
وقت گزرتا گیا، باتوں سے ملاقاتیں بڑھنے لگیں۔ نایاب کے چہرے پر وہی روشنی جھلکنے لگی جو کبھی صرف خوابوں میں تھی۔
ارسلان نے ایک دن کہا:
"میں نے تمہیں پہلی بار دیکھا تو لگا جیسے کسی دعا کا جواب مل گیا ہو۔"
مگر قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ ارسلان کو بیرونِ ملک جانا پڑا۔ جانے سے پہلے وہ بولا:
"میں لوٹ آؤں گا، نایاب — کیونکہ تم میرا گھر ہو۔"
مہینے بیت گئے، خطوط آئے مگر ملاقات نہ ہو سکی۔ نایاب ہر شام اسی کرسی پر بیٹھی رہتی، جہاں کبھی ارسلان کی باتوں کی خوشبو بسا کرتی تھی۔
اور آج بھی — جب موم بتی جلتی ہے اور چاندنی کھڑکی سے اندر آتی ہے — نایاب مسکرا کر کہتی ہے:
"محبت انتظار نہیں، یقین کا نام ہے۔"
0 Comments