Loot Aany Wali Hawa ( لوٹ آنے والی ہوا)



**عنوان: لوٹ آنے والی ہوا”**

دن، مہینے، پھر سال گزر گئے۔
وقت جیسے نایاب کے دروازے پر رُک کر سانس لیتا تھا، مگر اندر داخل ہونے سے ہچکچاتا تھا۔ وہ اب بھی ہر شام اُسی کرسی پر بیٹھتی، موم بتی جلاتی، اور وہ کتاب پڑھتی جو ارسلان نے کبھی دی تھی۔

ایک دن اچانک، دروازے پر دستک ہوئی۔
نایاب نے چونک کر دروازہ کھولا — سامنے ایک اجنبی کھڑا تھا، ہاتھ میں ایک خط۔

"یہ خط ارسلان صاحب نے دیا تھا، جانے سے پہلے۔ کہا تھا جب وہ لوٹ نہ سکیں تو یہ دے دینا۔"

نایاب کے ہاتھ لرز گئے۔
لفافہ کھولا تو ارسلان کی تحریر جیسے سانس لے رہی تھی:

 "نایاب،
 اگر کبھی یہ خط تمہیں ملے تو سمجھ لینا میں تمہارے پاس نہیں آ سکا۔
 مگر میری محبت زندہ رہے گی، ہر چاندنی رات میں، ہر روشنی میں۔
 تم مسکرانا مت چھوڑنا، کیونکہ تمہاری مسکراہٹ ہی میری دعا ہے۔"

نایاب کے آنسو چمکنے لگے، مگر چہرے پر سکون تھا — وہی سکون جو یقین سے جنم لیتا ہے۔

اسی رات آسمان پر چاند کچھ زیادہ روشن تھا۔
نایاب نے اپنی چادر درست کی، کھڑکی کے پاس جا کر آسمان کی طرف دیکھا، اور دھیرے سے کہا:
"محبت صرف ساتھ رہنے کا نام نہیں، یاد رہنے کا بھی ہوتا ہے، ارسلان۔"

چاندنی اس کے چہرے پر گری، جیسے خود ارسلان نے مسکرا کر جواب دیا ہو۔

Post a Comment

0 Comments