
"سانول یار "
پشاور کی پرانی گلیوں میں ایک نام خاموشی سے گونجتا تھا — سانول۔
کالی شلوار قمیض، کندھے پر رومال، اور آنکھوں میں ایک عجیب سا سکون۔
وہ گن اٹھاتا ضرور تھا، مگر کسی بےگناہ پر نہیں — اس کا اصول تھا:
“میں گناہگار ضرور ہوں، ظالم نہیں۔”
لوگ اسے اچھا گینگسٹر کہتے تھے، کیونکہ وہ کمزوروں کے لیے ڈھال تھا،
اور ظالموں کے لیے آفت۔
ایک دن قسمت نے ایک موڑ لیا۔
اسی محلے میں زویہ نام کی لڑکی رہنے آئی — سفید لباس، نرم لہجہ،
اور مسکراہٹ جو سانول کے دل کے زخموں پر مرہم رکھتی تھی۔
پہلی نظر میں سانول کو لگا جیسے دنیا تھم گئی ہو۔
رفتہ رفتہ، ان دونوں کے بیچ خاموشی میں ایک کہانی لکھی جانے لگی۔
زویہ جانتی تھی کہ سانول کی دنیا خطرناک ہے،
مگر دل کسی قاعدے کا پابند کہاں رہتا ہے؟
وہ اسے “سانول یار” کہہ کر پکارتی تھی، اور یہی نام اس کی پہچان بن گیا۔
لیکن کہانیاں ہمیشہ آسان نہیں ہوتیں۔
زویہ کے والد — حاجی صاحب — شہر کے عزت دار آدمی تھے۔
انہیں سانول کا نام سنتے ہی غصہ آ جاتا۔
انہوں نے فیصلہ کر لیا کہ زویہ کی شادی ایک بڑے تاجر کے بیٹے سے ہوگی۔
زویہ نے رو رو کر کہا:
“ابا، میں کسی اور کی نہیں ہو سکتی۔ سانول میرا نصیب ہے۔”
مگر حاجی صاحب کا دل پتھر ہو چکا تھا۔
انہوں نے زویہ کو قید کر دیا، اور نکاح کی تاریخ طے ہو گئی۔
نکاح کی رات، گلی کے موڑ پر سانول کی موٹر سائیکل رکتی ہے۔
ہوا میں ہلکی بارش، اور اس کے ہاتھ میں صرف ایک گلاب۔
وہ مسجد کے دروازے پر پہنچتا ہے،
جہاں نکاح پڑھایا جا رہا تھا۔
دروازہ کھلتا ہے — زویہ آنسوؤں کے ساتھ بھاگتی ہے،
اور سانول کے سامنے آ کر کہتی ہے:
“یار، لے جا مجھے... جہاں تیرا دل ہو۔”
سانول مسکراتا ہے، اس کی بندوق زمین پر گرتی ہے،
اور وہ کہتا ہے:
“آج سے میرا جنگ ختم، میرا جرم تم ہو۔”
وہ دونوں شہر سے دور نکل جاتے ہیں —
پہاڑوں کے درمیان ایک چھوٹے سے گاؤں میں،
جہاں سانول اب صرف زویہ کا یار تھا،
گولیوں کا نہیں، خوابوں کا عاشق۔
0 Comments